موڈبیدرے :22/نومبر (ایس او نیوز) ہمارے اسلاف نے جن رسم و رواج کو اپنایا تھا ان سے چھٹکارا حاصل کرتے ہوئے آزادنہ طورپر اپنے شعورکا استعمال کریں، ذہنی غلامی سے باہر آئیں، استدلالی ، استفساروالا سائنٹفک رویہ اپنائیں ۔ ان خیالات کا اظہار ریاست کے مشہور کنڑا ادیب ونقاد ڈاکٹرجینت کائی کنی نےکیا۔ وہ یہاں آلواس تعلیمی پرتشتٹھان کے زیراہتمام ’’ کرناٹکا: مستقل کی تعمیر ‘‘ موضوع پر ودیاگری کے سندری آلوا س کے صحن میں سہ روزہ ’’ آلواس نوڈسری ‘‘ (کنڑا تہذیبی ثقافتی قومی اجلاس ) کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کررہے تھے۔
ڈاکٹر جینت کائی کنی نے اپنے افتتاحیہ خطاب میں مفکرانہ سنجیدہ خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ذات پات ، طبقات کی تفریق جیسی بدبختیاں اور مصیبت زدہ حدود سماج کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔ ہزاروں ستونوں پر کھڑے ہوئے گھر کی مثال والے بھارت میں یہ سب عام ہونے کا خیال کرکے خاموش نہ بیٹھیں بلکہ زندگی کو ’’کل ‘‘ کا تصور دے کر خوب صورت دنیا تعمیر کرنے کے لئے آگے بڑھیں۔ یہ جو ’’کل ‘‘ ہے غیر متوقع ،سماوی اورملکوتی چیز ہے، اس کا بنیاد ی عنصر آزادئ اظہار میں چھپا ہواہے، جمہوریت کی جان آزادئ اظہار کا استعمال کریں ، ذہنی غلامی میں مبتلا نہ ہونے کی انہوںنے اپیل کی۔ انہوں نے موجودہ سوشیل نیٹ ورک سائٹ پر ہونے والی بے تکی پیغام رسانی کی کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج واٹس اپ، فیس بک جیسے سوشیل نیٹ ورک سائٹس ، جدید خیالات و تفکرات کو پیش کرنےکے بجائے جھوٹے خوابوں کی دنیا میں ہمیں لے جاتے ہیں۔ سچ اور جھوٹ ، صحیح اور غلط کا خیال نہ کرتے ہوئے کسی کے آئے ہوئے پیغامات کو ارسال کرنے میں ہی ہم وقت گزاری کرتے ہیں لیکن اس سلسلے میں ہمیں کیا کوشش کرنی ہے آگے کیا کرنا ہے اس تعلق سے کوئی فکر نہیں کررہے ہیں۔ مریضوں کی خبرگیری کرنےو الے اسپتالوں میں ہم ذات پات کے بغیر گزرنے والی زندگی کو سمجھنا کا موقع ملتاہے، یہاں موت کی آغوش میں جاتے ہوئے بھی ہمیں مثبت فکر، ہمدردی کا جذبہ ، پیار ومحبت کا پیغام ملتاہے ۔ اسپتال ان خصوصیات کا مرکز ہیں۔ ڈاکٹر جینت کائی کنی نے کہاکہ بچپن کے سمندر جیسے وسعت اور امیری والا دل آج باکل غائب ہوگیا ہے۔ خو د کو جلانے والی نفرتیں ہر جگہ عام ہورہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایک بہتر دنیا کی تعمیر کرنے والی تہذیب کی اعلیٰ علامت بنے آلواس نوڈسری ذات پات، دھرم ، طبقات کی تفریق کئے بغیر ثقافتی تہوار کے طورپر منایا جارہاہے۔ کنڑازبان کے لئے ہیرے کی حیثیت رکھنے والا یہ تہوار عدم مساوات ، تفریق، توہم پرستی کو ختم کرنے والا ایک مرکز ہے۔ خود اعتمادی کی پرورش ، حقیقی روحانیت پر مبنی فن کاری کو بونےکا یہ مرکز ہے۔ تہذیب صرف نمائشی نہ ہوکر باغ کی طرح ہو ۔
کنڑا ساہتیہ پریشد کے صدر ڈاکٹر منو بلیگار ، کرناٹکا جانپد یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر کے چنپا گوڈا، سابق وزراء ابھئے چندراجین، کے امرناتھ شٹی ، ودھان پریشد کے رکن کیپٹن گنیش کارنیک، ہری کرشنا پوننور ، ضلعی صدر پردیپ کمار، ائیریا لکشمی نارائن آلوا، جئے شری امرناتھ شٹی اور نوڈسری کے 48شاخوں کے صدور موجود تھے۔ صحافی منوہر پرساد نے نظامت کے فرائض انجام دئیے ، وینو گوپا شٹی نے شکریہ اداکیا۔
استقبالیہ اور افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے آلواس نوڈسری کے روح رواں ڈاکٹر ایم موہن آلوا نے کہاکہ نوٹوں کے کالعدم قرار دئیے جانے سے پیدا ہوئے ہنگامہ خیز صورت حال کے درمیان ہمارا یہ پروگرام کامیاب ہونے کا اعتماد ظاہر کیا۔ ریاست بھر سے کئی کنڑیگاس نے اپنے نام درج کرائے ہیں ، اس مرتبہ کا نوڈسری پروگرام عالمی سطح پر اپنے اثرات پیدا کرنے کاخیال ظاہر کیا۔ اس موقع پر کئی ایک ثقافتی اور دیہی روایات پر مبنی پروگرام پیش ہوئے، مختلف عنوانات پر سمینار اور مذاکروں کا انعقاد ہوا۔ ریاست اور ملک بھر کے مشہور فن کاروں نے اپنی فن کاری کا مظاہرہ کیا۔